سپیکرز
سجاد رضا کا پیش کردہ کلام
فائدہ کیا ہے زمانے میں خسارہ کیا ہے
فائدہ کیا ہے زمانے میں خسارہ کیا ہے خاک ہو جائیں گے ہم لوگ ہمارا کیا ہے جیتنے والوں کا ہم کو نہیں کچھ علم کہ ہم ہار کر سوچتے رہتے ہیں کہ ہارا کیا ہے دیکھو اے عمرِ رواں خواہشیں رہ جائیں گی تم گزر جاؤ گی چُپکے سے تمھارا کیا ہے تہ بہ تہ دھڑکنیں تجسیم ہوئی جاتی ہیں پے بہ پے اُس نے مرے دل سے گزارا کیا ہے وہ اگر دیکھ لے اک بار محبت سے تو پھر ذرۂ خاک چمک اُٹھے ستارہ کیا ہے خواب میں ہم کو فلک پار بُلاتا ہے کوئی جانے کیا نام ہے اُس کا وہ ہمارا کیا ہے ناؤ کس چڑیا کو کہتے ہیں مجھے کیا معلوم لہر کیا شے ہے ندی کیا ہے کنارہ کیا ہے سوچنا یہ ہے کہ آخر ہمیں جانا ہے کہاں دیکھنا یہ ہے مقدر کا اشارہ کیا ہے
درون خواب نیا اک جہاں نکلتا ہے
درون خواب نیا اک جہاں نکلتا ہے زمیں کی تہہ سے کوئی آسماں نکلتا ہے بھلا نظر بھی وہ آئے تو کس طرح آئے مرا ستارہ پس کہکشاں نکلتا ہے ہوائے شوق یہ منزل سے جا کے کہہ دینا ذرا سی دیر ہے بس کارواں نکلتا ہے مری زمین پہ سورج بہ وقت صبح و مسا نکل تو آتا ہے لیکن کہاں نکلتا ہے یہ جس وجود پہ تم ناز کر رہے ہو بہت یہی وجود بہت رائگاں نکلتا ہے مقام وصل اک ایسا مقام ہے کہ جہاں یقین کرتے ہیں جس پر گماں نکلتا ہے بدن کو چھوڑ ہی جانا ہے روح نے آزرؔ ہر اک چراغ سے آخر دھواں نکلتا ہے